Mensajes de los Colaboradores

Stephen

Do you Know Jesus coming is imminent

  کیا آپ جانتے ہیں اُٹھائے جانےکا وقت کب ہے؟


> مکاشفہ۱۰: ۱۔۱۱ <
’’پھر میں نے ایک اور زور آور فرشتہ کو بادل اوڑھے ہوئے آسمان سے اُترتے دیکھا۔ اُس کے سرپر دھنک تھی اور اُس کا چہرہ آفتاب کی مانند تھااور اُس کے پاؤں آگ کے ستونوں کی مانند۔ْ اور اُس کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی کھلی ہوئی کتاب تھی۔اُس نے اپنا دہنا پاؤں تو سمندر پر رکھا اور بایاں خشکی پر۔ْ اورایسی بڑی آواز سے چلایا جیسے ببر دھاڑتا ہے اور جب وہ چلایا تو گرج کی سات آوازیں سنائی دیں۔ْ اور جب گرج کی ساتوں آوازیں سنائی دے چکیں تو میں نے لکھنے کا ارادہ کیا اور آسمان پر سے یہ آواز آتی سنی کہ جو باتیں گرج کی اِن سات آوازوں سے سُنی ہیں اُن کو پوشیدہ رکھ اور تحریر نہ کر ۔ْ اور جس فرشتہ کو میں نے سمندر اور خشکی پر کھڑے دیکھا تھااُس نے اپنا دہنا ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھایا ۔ْ اور جو ابدالآباد زندہ رہے گا اور جس نے آسمان اور اُس کے اندر کی چیزیں اور زمین اور اُس کے اوپر کی چیزیں اور سمندر اور اُس کے اندر کی چیزیں پیدا کی ہیں اُس کی قسم کھا کر کہا کہ اب اور دیر نہ ہوگی۔ْ بلکہ ساتویں فرشتے کی آواز دینے کے زمانہ میں جب وہ نرسنگا پھونکنے کو ہو گا تو خُدا کا پوشیدہ مطلب اُس خوشخبری کے موافق جو اُس نے اپنے بندوں نبیوں کو دی تھی پورا ہوگا۔ْ اور جس آواز دینے والے کو میں نے آسمان پر بولتے سُنا تھا اُس نے پھر مجھ سے مخاطب ہو کر کہا جا۔ اور فرشتہ کے ہاتھ میں سے جو سمندر اور خشکی پر کھڑا ہے وہ کھلی ہوئی کتاب لے لے۔ْ تب میں نے اُس فرشتہ کے پاس جا کر کہا کہ یہ چھوٹی کتاب مجھے دیدے۔اُس نے مجھ سے کہا لے اِسے کھا لے۔ یہ تیرا پیٹ تو کڑوا کر دے گی مگر تیرے منہ میں شہد کی طرح میٹھی لگے گی۔ْ پس میں وہ چھوٹی کتاب اُس فرشتہ کے ہاتھ سے لے کر کھا گیا ۔وہ میرے منہ میں تو شہد کی طرح میٹھی لگی مگر جب میں اُسے کھاگیا تو میرا پیٹ کڑوا ہو گیا۔ْ اور مجھے کہا گیا کہ تجھے بہت سی اُمتوں اور قوموں اور اہلِ زبان اور بادشاہوں پر پھر نبوّت کرنا ضرور ہے۔ْ‘‘

 

 

 



تفسیر

اِس باب کی عکاسی آیت
۷ میں پائی جاتی ہے: ’’بلکہ ساتویں فرشتے کی آواز دینے کے زمانہ میں جب وہ نرسنگا پھونکنے کو ہو گا تو خُدا کا پوشیدہ مطلب اُس خوشخبری کے موافق جو اُس نے اپنے بندوں نبیوں کو دی تھی پورا ہوگا۔ْ‘‘ دوسرے لفظوں میں ، اُٹھایا جانا، اِس موقع پر واقع ہو گا۔

آیت
۱: پھر میں نے ایک اور زور آور فرشتہ کو بادل اوڑھے ہوئے آسمان سے اُترتے دیکھا۔ اُس کے سرپر دھنک تھی اور اُس کا چہرہ آفتاب کی مانند تھااور اُس کے پاؤں آگ کے ستونوں کی مانند۔ْ
زور آور فرشتہ جو باب دس میں ظاہر ہوتا ہے خُدا کی تعمیل کرنے والاخادم ہے جو اُس کے آنے والے کاموں کی گواہی دیتا ہے۔ اِس فرشتہ کی ظاہر ی شکل و صورت ظاہر کرتی ہے کہ خُداکی تعظیم و قدرت کتنی عظیم ہیں ۔ یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ خُدا اِس دُنیا کے سمندروں کو تباہ کر دے گا، اور مقدسین کو زندہ کرے گا اور آسمان پراُٹھا لے گا۔

آیات
۲۔۳: اور اُس کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی کھلی ہوئی کتاب تھی۔اُس نے اپنا دہنا پاؤں تو سمندرپر رکھا اور بایاں خشکی پر۔ْ اورایسی بڑی آواز سے چلایا جیسے ببر دھاڑتا ہے اور جب وہ چلایا تو گرج کی سات آوازیں سنائی دیں۔ْ
خُداساری چیزوں کو اپنے منصوبہ جات کے مطابق کرتا ہے ۔ جب آخری دن آئے گاوہ دونوں زمین اور سمندر کو تباہ کردے گا۔ دوسرے لفظوں میں ، ہمارا خُداوند پہلے سمندر اور پہلی زمین کو تباہ کر دے گا۔
یہ حوا لہ ساری باتوں کو پورا کرنے جس طرح وہ منصوبہ بنا چکا ہے ، اور اُس کے کاموں کی تکمیل کے لئے خُداکی زورآور مرضی کو ظاہر کرتا ہے۔

 

 

 

 

کلامِ مقدس میں ، عدد سات کاملیت کا مطلب بیان کرتا ہے۔ خُدانے اِس عد د کو اُس وقت استعمال کیا جب اُس نے اپنا کام مکمل کیا اور آرام کیا ۔ اِسی طرح، یہ حوالہ ہمیں بتاتا ہے کہ خُدا ، آخری دور میں، بہت ساروں کو اُن کی تباہی سے آزاد کرے گا، لیکن دوسری طرف، یقین سے اِس دُنیا کو تباہ کرے گا۔

آیت
۴: اور جب گرج کی ساتوں آوازیں سنائی دے چکیں تو میں نے لکھنے کا ارادہ کیا اور آسمان پر سے یہ آواز آتی سنی کہ جو باتیں گرج کی اِن سات آوازوں سے سُنی ہیں اُن کو پوشیدہ رکھ اور تحریر نہ کر ۔ْ
خُدانے یوحناؔ کو سات گرجوں نے کیا کہاتھا ، غیر نجات یافتہ لوگوں سے مقدسین کا اُٹھایا جانا پوشیدہ رکھنے کے لئے ، تحریرنہ کرنے کا حکم دیا۔بعض اوقات، خُدا غیر ایمانداروں سے اپنے کام چھپاتا ہے، کیونکہ وہ، خُداکے دشمنوں کے طور پر ، اُس کے مقدسین سے نفرت کرتے ہیں اور اُنہیں ستاتے ہیں۔
نوحؔ کے دور میں بھی، جب خُدانے پانی کے ساتھ دُنیا کو تباہ کیا، اُس نے آنے والا طوفان صرف نوحؔ پر ظاہر کیا تھا۔ حتیٰ کہ جیسے اب، خُدا ساری دُنیامیں پانی اور روح کی خوشخبری کی منادی کرتا ہے، اور اُن کوآسمان کی بادشاہی دیتا ہے جو اِس پر ایمان رکھتے ہیں۔ لیکن اُن کے علاوہ جو سچا ایمان رکھتے ہیں ، وہ کسی دوسرے پر ظاہر نہیں کر چکا کہ اُٹھایا جانا کب واقع ہونے والا ہے۔ راستبازوں کے لئے، خُدا اپنی بادشاہی میں ایک نئی دُنیا پیدا کرچکا ہے، اور وہ اِس میں اُن کے ساتھ جینے کی خواہش رکھتا ہے۔

آیات
۵۔۶: اور جس فرشتہ کو میں نے سمندر اور خشکی پر کھڑے دیکھا تھااُس نے اپنا دہنا ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھایا ۔ْ اور جو ابدالآباد زندہ رہے گا اور جس نے آسمان اور اُس کے اندر کی چیزیں اور زمین اور اُس کے اوپر کی چیزیں اور سمندر اور اُس کے اندر کی چیزیں پیدا کی ہیں اُس کی قسم کھا کر کہا کہ اب اور دیر نہ ہوگی۔ْ
اِن ساری باتوں کی خُداکے نام کے وسیلہ سے قسم کھائی جا سکتی ہے، جس طرح ہر چیز میں آخری قسم کسی کے ذاتی نام کی نہیں ، بلکہ کسی دوسرے بڑے کے نام کی قسم کھائی جاتی ہے۔ اِسی طرح، خُدا دونوں آخری دور کے مقدسین اور اُن سب کا حتمی ضمانتی ہے جو پہلے ہی اُس کے مقدسین بن چکے ہیں۔


یہاں ، زور آور فرشتہ اُس قادرِ مطلق کی قسم کھاتا ہے کہ اُٹھایا جا نا یقینی طور پر واقع ہو گا۔ یہ قسم ہمیں بتاتی ہے کہ خُدا نئے آسمان اور نئی زمین کو پیدا کرے گااور اِس نئی دُنیا میں اپنے مقدسین کے ساتھ زندہ رہے گا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ خُدا اپنی نئی دُنیا کی تخلیق میں تاخیر نہیں کرتا، بلکہ اِسے جلد ہی اپنے مقدسین کے لئے مکمل کرے گا۔

آیت
۷: بلکہ ساتویں فرشتے کی آواز دینے کے زمانہ میں جب وہ نرسنگا پھونکنے کو ہو گا تو خُدا کا پوشیدہ مطلب اُس خوشخبری کے موافق جو اُس نے اپنے بندوں نبیوں کو دی تھی پورا ہوگا۔ْ
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ جب آخری ساتواں نرسنگا حتمی ایذارسانیوں میں پھونکا جائے گا، تمام مقدسین اُٹھا لئے جائیں گے۔ اِس زمین پر سب سے زیادہ حیران کن بات کیا ہے یہ ہے کہ مقدسین کا اُٹھایا جانا کب واقع ہو گا۔
مکاشفہ
۱۰: ۷ ہمیں بتا تا ہے ، ’’بلکہ ساتویں فرشتے کی آواز دینے کے زمانہ میں جب وہ نرسنگا پھونکنے کو ہو گا تو خُدا کا پوشیدہ مطلب اُس خوشخبری کے موافق جو اُس نے اپنے بندوں نبیوں کو دی تھی پورا ہوگا۔ْ ‘‘اِس نوشتے کا ،’’ خُدا کا پوشیدہ مطلب اُس خوشخبری کے موافق جو اُس نے اپنے بندوں نبیوں کو دی تھی پورا ہوگا۔ْ ‘‘یہاں کیا مطلب ہے۔اِس کا مطلب ہے کہ بالکل جس طرح پانی اور روح کی خوشخبری سچی خوشخبری ہے ، اور جس طرح جو کوئی اِس پر ایمان رکھتا ہے فدیہ اور اپنے دل میں روح القدس حاصل کر تا ہے ، اِسی طرح مقدسین کا اُٹھایا جانا یقیناًواقع ہو گاجب ساتواں نرسنگا پھونکا جا ئے گا۔
سات نرسنگوں میں سے چھٹی آفت ختم ہونے کے بعد ، مقدسین شہید کئے جائیں گے جونہی مُخالفِ مسیح ، دُنیامیں اپنی ظاہری شکل و صورت ظاہر کرنے اور اِس پر اپنی حکومت قائم کرنے کے بعد ، ہر کسی سے حیوان کے نشان کی چھاپ لینے کا مطالبہ کرتا ہے ۔ تھوڑی دیر بعد، جب ساتواں فرشتہ اپنا نرسنگا پھونکے گا ، دونوں شہید اور بچ جانے والے مقدسین جنہوں نے اپنے ایمان کی حفاظت کی جی اُٹھیں گے اور فوراً اُٹھا لئے جائیں گے۔تب سات پیالوں کی آفتیں ،یعنی نسلِ انسانی پر آخری آفت ،شروع ہوگی۔ اِس وقت، مقدسین زمین پر مزید نہیں ہوں گے، بلکہ اپنے اُٹھائے جا نے کے بعد آسمان پر خُداوند کے ساتھ ہوں گے۔ مقدسین کو یقیناًجاننا چاہیے کہ اُن کا اُٹھایا جا نا تب واقع ہو گا جب ساتواں فرشتہ اپنا آخری نرسنگا پھونکے گا۔

 

 


پولسؔ رسول ، بھی ، ہمیں
۱۔تھسلنیکیوں ۴ باب میں بتاتا ہے کہ خُداوند مقرب فرشتہ کے نرسنگے کی آواز کے ساتھ آسمان سے اُترآئے گا۔ بہت سارے مسیحی سوچتے ہیں کہ خُداوند اِس زمین پر اُترآئے گا جب اُٹھایا جا نا واقع ہو گا، لیکن اصل صورتِ حال ایسی نہیں ہے۔ جب اُٹھایا جانا واقع ہو گا، ہمارا خُداوند اِس زمین پر نیچے نہیں آئے گا، بلکہ ہوا میں آئے گا۔ دوسرے لفظوں میں ،وہ اُٹھائے جانے کا عمل،مقدسین کو اوپر اُٹھانے اور اُنہیں ہوا میں لینے کے وسیلہ سے مکمل کرے گا۔
اِسی طرح، وہ مسیحی جو غلطی سے سوچتے ہیں کہ خُداوند اِس زمین پر جب حقیقتاً مقدسین کا اُٹھایا جا نا واقع ہو گا نیچے آئے گا کو اپنی غلط فہم کو دور کرنا چاہیے اور اُنہیں سچ کو جاننا چاہیے اور یاد رکھنے کی معرفت مناسب طور پر اِس پر ایمان رکھنا چاہیے کہ مقدسین کا اُٹھایا جانا تب واقع ہو گا جب ساتواں فرشتہ اپنا نرسنگا پھونکے گا۔
’’ خُدا کا پوشیدہ مطلب اُس خوشخبری کے موافق جو اُس نے اپنے بندوں نبیوں کو دی تھی پورا ہوگا۔ْ ‘‘آپ کو یقیناًیاد رکھنا چاہیے کہ خُدا کا پوشیدہ مطلب یہاں مقدسین کے اُٹھائے جانے کو بیان کرتا ہے جو ساتویں نرسنگے کی آفت کے پھونکنے کے ساتھ واقع ہو گا۔ مختصر ، اب، خُدا پہلی دُنیا کو تباہ کرے گا، اور دوسری دُنیا کو بنائے گا۔ یہ اُن کے ساتھ خُداکے سکونت کرنے اورزندہ رہنے کے لئے ہے جو، اِس زمین پر رہتے ہوئے ، پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے نئے سرے سے پیدا ہو چکے ہیں ، اور وفاداری سے اُن سارے و عدوں کو بھی پورا کرتے ہیں جو قادرِ مطلق خُدا اپنے لوگوں سے کرتا ہے ۔ یہ خُدا ، تمام کائنات کے خالق کی ، مرضی ہے ، جس کو اُس نے بذاتِ خود مقدسین کے لئے تیار کیا۔
جب فرشتہ ساتواں نرسنگا پھونکے گا، سات نرسنگوں کی آفتیں ختم ہو جائیں گی ، اورسات پیالوں کی آخری آفتیں شروع ہو جائیں گی۔ کلام ہمیں بتا تا ہے ، ’’بلکہ ساتویں فرشتے کی آواز دینے کے زمانہ میں جب وہ نرسنگا پھونکنے کو ہو گا تو خُدا کا پوشیدہ مطلب اُس خوشخبری کے موافق جو اُس نے اپنے بندوں نبیوں کو دی تھی پورا ہوگا۔ْ ‘‘ یہاں خُدا کاپوشیدہ مطلب یہ ہے کہ مقدسین ساتویں فرشتے کے نرسنگا پھونکنے کے ساتھ ہی اُٹھا لئے جائیں گے ۔
مقدسین اب اِس زمین پر زندہ رہ رہے ہیں ، لیکن اُنہیں نئی ، یعنی بہتر دُنیا میں زندہ رہنے کے لئے ، یقیناًشہید ہونا ، جی اُٹھنا، اور اُٹھا لیا جانا چاہیے ۔

 

 

 

 

 صرف تب وہ خُداوند کے ساتھ برّے کی شادی کی ضیافت میں بلائے جائیں گے اور اور اُس کے ساتھ ہزار سال تک بادشاہی کریں گے ۔ ہزار سال کے بعد ، مُخالفِ مسیح ، شیطان ،اور اُس کے سارے پیروکا ر خُدا کی ابدی عدالت حاصل کریں گے۔ اور پھر تب سے آگے ، خُداوند کے ساتھ اُس کے ابدی برکات کے آسمان پر زندہ رہنے کی سعادت سے برکت پائیں گے۔ یہ خُدا کا پوشیدہ مطلب ہے۔ ہم ، ہم میں سے صرف اُن پر یہ بھید ظاہر کرنے کے لئے خُداکا شکر ادا کر سکتے ہیں جو سچا ایمان رکھتے ہیں ۔ خُدا ہمیں بتاتا ہے کہ وہ یہ سارے وعدے پورے کرے گا جب ساتواں فرشتہ اپنا نرسنگا پھونکے گا۔

آیت
۸: اور جس آواز دینے والے کو میں نے آسمان پر بولتے سُنا تھا اُس نے پھر مجھ سے مخاطب ہو کر کہا جا۔ اور فرشتہ کے ہاتھ میں سے جو سمندر اور خشکی پر کھڑا ہے وہ کھلی ہوئی کتاب لے لے۔ْ
خُداہمیں بتاتا ہے کہ مقدسین اور خُدا کے خادمین کو یقیناًتب تک پانی اور روح کی خوشخبری کی منادی جاری رکھنی چاہیے جب تک آخری دن نہیں آجاتا۔ یہ خوشخبری گناہوں کی معافی ، شہادت ، جی اُٹھنے ، اُٹھائے جانے ، اور برّے کی شادی کی ضیافت کی سچائی کے بارے میں ہے ۔ مقدسین اور خُدا کے خادمین کو آخری دن تک خوشخبری کی منادی کرنے کے لئے ، اُنہیں یقیناًعظیم ایذارسانیوں کے شروع ہونے سے پیشتر اپنے ایمان کے ساتھ خُداکے کلام سے پرورش پانی چاہیے ۔ خُدا ہم سے د و قسم کے ایمان کا مطالبہ کرتا ہے ۔ پہلا نئے سرے سے پید ا ہونے کا ایمان ہے ، اوردوسرا اپنے سچے ایمان کی حفاظت کے لئے شہادت کو قبول کرنے کا ایمان ہے ۔

آیت
۹: تب میں نے اُس فرشتہ کے پاس جا کر کہا کہ یہ چھوٹی کتاب مجھے دیدے۔اُس نے مجھ سے کہا لے اِسے کھا لے۔ یہ تیرا پیٹ تو کڑوا کر دے گی مگر تیرے منہ میں شہد کی طرح میٹھی لگے گی۔ْ
مقدسین اور خُداکے خادمین کو پہلے یقیناًخُدا کے کلام پر پرورش پانی چاہیے اور تب اِسے بہت سارے دوسرے لوگوں تک پھیلانا چاہیے ۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اگرچہ اُن کے دل جو خُداکے کلام پر ایمان رکھتے ہیں شیروشکر ہیں ،لیکن کھوئی ہوئی جانوں تک ایمان کے اِس کلام کی منادی کرنا ایسا آسان کام نہیں ہے ،اِس کے ساتھ ساتھ قربانیاں درکار ہیں ۔یہ ہے خُدا ہمیں یہاں کیا دکھا رہا ہے ۔

 


آیت
۱۰: پس میں وہ چھوٹی کتاب اُس فرشتہ کے ہاتھ سے لے کر کھا گیا ۔وہ میرے منہ میں تو شہد کی طرح میٹھی لگی مگر جب میں اُسے کھاگیا تو میرا پیٹ کڑوا ہو گیا۔ْ
جب یوحنا ؔ نے ایمان کے ساتھ خُدا کا کلام کھایا ، اُس کا دل خوشی کے ساتھ بھر گیا۔ لیکن اُن تک جو سچائی پر ایمان نہیں رکھتے خُداکے کلام کے وسیلہ سے سچی گواہی کی منادی کرنے میں ، یوحناؔ نے بہت ساری مشکلات کا سامنا کیا ۔

آیت
۱۱: اور مجھے کہا گیا کہ تجھے بہت سی اُمتوں اور قوموں اور اہلِ زبان اور بادشاہوں پر پھر نبوّت کرنا ضرور ہے۔ْ
مقدسین کو یقیناًہر کسی پر پھر نبوّ ت کرنی چاہیے کہ خُداکی برکا ت پانی اور روح کی خوشخبری کے وسیلہ سے حاصل ہوتی ہیں ۔ اُنہیں یقیناًپھر نبوّت کرنی چاہیے کہ آخری دور میں اِس دُنیا کے لئے ہمارے خُداوند کا مقصد ہر کسی کے لئے پانی او ر روح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے خُداکی برکات میں داخل ہونا ہے ۔ خُدانے یوحنا ؔ کو نبوّت کرنے کاجو حکم دیا سچائی کے کلام کی منادی کرنا ہے ۔ کہ خُداکی معرفت بخشی گئی ،ایک نئی دُنیا جلد آنے والی ہے ، اور یعنی جو کوئی اِس میں داخل ہونا چاہتا ہے اُسے یقیناًپانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے راستباز ٹھہرنا چاہیے ۔ اِس کام کے لئے ، مقدسین اور خُداکے خادمین کو یقیناًپھر بالکل ابتد ا سے خُدا کے کلام کی منادی کرنی چاہیے ، تاکہ اِس دُنیا میں ہر کوئی وہی ایمان رکھے جو اُنہیں ہمارے خُداوند کی بادشاہت میں داخل ہونے اور زندہ رہنے کی اجازت دے گا۔