The New Life Mission

بائبل کی اصطلاحات

زبان

بائبل کی چند اصطلاحات پر مختصر وضاحت

- پانی اور رُوح کی خوشخبری سے وابستہ

  • فدیہ

    کسی ملکیت یاکسی آدمی کوتاوان کی ادائیگی کے بدلے میں چُھڑانا۔قیمت یا پیسوں کی مطالباتی ادائیگی یا ایسی رہائی کے لئے ادا کی جانے والی رقم۔ اکثرو پیشتر زیادہ تر رہائی کی مثبت نمائندگی کے طور پر استعمال ہوا(مثلاً:  خروج ۲۱:۳۰ ،’ کل رقم‘ ؛گنتی۳۵:۳۱-۳۲ ،یسعیاہ۴۳:۳،'فدیہ')۔ عہدِ جدید میں، متی۲۰:۲۸اور مرقس۱۰:۴۵فدیہ کوبطور’’ پیسوں کی ادائیگی ‘‘بیان کرتے ہیں۔

  • کفّارہ دینا، کفّارہ

    نسلِ انسانی کے تمام گناہوں کو یسوؔع پر سلسلہ وار منتقل کرنے کی رسم۔ عہدِ عتیق میں،کفّارہ ذَبیح پر اُس کے سر پر ہاتھ رکھنے کےوسیلہ سے  گناہ کوسلسلہ وار منتقل کرنا تھا۔عہدِ جدید میں ،اِس کا مطلب یوحناؔ اِصطباغی سےیسوؔع کا بپتسمہ ہے ۔عبرانی اور یونانی میں، اِس لفظ کا مطلب گناہ کویسوؔع مسیح پرسلسلہ وار منتقل کرناہے تاکہ گناہ گارخُدا کے ساتھ درست تعلق میں اُستوار ہو سکیں۔ عہدِ جدید کفّارہ کی قربانی کو:یعنی یسوؔع کے بپتسمہ اور اُسکی صلیبی موت کوبڑی اچھی طرح واضح کرتا ہے۔
    عہدِ عتیق میں:عہدِ عتیق میں لفظ'کفّارہ' تقریباً ۱۰۰مرتبہ استعمال ہوا ہے اوریہ ہمیشہ ہی  (مثلاً؛احبار۲۳:۲۷،۲۵:۹،گنتی۵:۸)عبرانی میں بطور’ کپھر‘(kaphar) بیان  ہوا ہے (عموماً ’کفّارہ دینے‘ کے طور پردرج ہواہے )۔کفّارہ ایک عبرانی لفظ کا ترجمہ ہے جو زندہ بکرے کے سر پر ہاتھ رکھنے کے وسیلہ سے  گناہوں کو بسلسلہ طور پر منتقل کرنے اور اسرائیلوں  کی تمام بدکرداریوں کا اُس پر اقرار کرنے کا مفہوم دیتا ہے(احبار۱۶:۲۰)۔
    عہدِ جدید میں :کفّارہ ارامی لفظ ’کپر‘(Kpr)سے ہم آہنگ ہے جس کا مطلب ڈھانپناہے۔ اِس کا مطلب عہدِ جدید میں یسوؔع کے چُھٹکارےکا بپتسمہ ہے ۔یسوؔع اِس دُنیا میں تشریف لائے اور تمام نسلِ انسانی کی نجات کی تکمیل کے لئے۳۰سال کی عمر میں بپتسمہ لیا۔

  • کتابِ مقدّس کے مطابق کفّارہ

    الف۔ عہدِ عتیق میں، عموماً کفّارہ ایک جانور کی قربانی کےوسیلہ سے دیا جاتا تھا(مثلاً خروج۳۰:۱۰، احبار۱:۳- ۵، ۴:۲۰-۲۱، ۱۶:۶- ۲۲)۔
    ب۔ عہدِ جدید میں ،عہدِ عتیق کے کفّارہ کی قربانی کامجرّد خیال بنیادی طور پر قائم رہا،مگر ساری نسلِ انسانی کی مخلصی فقط یسوؔع مسیح،ابنِ خُدا، کا بدن قربان کرنے کے وسیلہ سے پوری ہو سکتی تھی۔ پولسؔ رسول نےفرمایا کہ یسوؔع مسیح ہمارے گناہوں کی خاطر مؤا ( ۱۔کرنتھیوں ۱۵:۳)۔
    کفّارہ کا لفظ نہ صرف موروثی گناہ کا فدیہ دینے کے لئے مسیح کی موت کوبیان کرنے کے واسطے، بلکہ ساری بنی نوع انسان کے تمامتر گناہوں کو اُٹھا نے کے لئےاستعمال ہوا تھا۔ بپتسمہ کے بعد جس کے ذریعہ سےجہان کے گناہ یسوؔع پرسلسلہ وار منتقل ہوئے(متی۳:۱۵)، اُس نے دار پر خون بہانے کے وسیلہ سے نسلِ انسانی کو بچالیا(احبار ۱:۱۔۵،یوحنا:۱۹: ۳۰)۔
    پولسؔ رسول ۲۔ کرنتھیوں ۵:۱۴میں وضاحت کرتا ہے، ’ایک سب کے واسطے مؤا۔‘اِس کے بعد، نیچے ۲۱ آیت میں،اُس نے بیان کیا،’ہماری خاطر،‘اور پھرگلیتوں ۳:۱۳میں،’ ہمارے لئے لعنتی بنا۔‘ صرف چندایک  آیات ہی عہدِ جدید میں یسوؔع کو ذَبیح کے طور پربیان کرتی ہیں (مثلاً افسیوں۵:۲): یوحنا۱:۲۹، ۳۶(’برّہ‘–– یوحناؔ اِصطباغی)اور۱۔ کرنتھیوں۵:۷ (’ہمارا فسح‘––پولسؔرسول)۔
    تاہم، پولسؔ نے نام لے کر بتایا کہ یردؔن میں یسوؔع کا بپتسمہ دُنیا کے تمام گناہوں کا کفّارہ تھا۔ وہ رومیوں ۶باب میں واضح کرتا ہے کہ کل عالم  کے تمام تر گناہ یسوؔع پر یوحناؔ اِصطباغی کے توسط سےاُس کے بپتسمہ کی وساطت سے سلسلہ وار منتقل ہو گئے۔
    وہ مزید وضاحت کرتا ہے کہ یسوؔع کی مصلوبیت سزا اورگناہ کا نعم البدل تھی، اور یعنی  کہ کفّارہ کی قربانی تمام لوگوں کی جانوں کے واسطے قربان کی گئی تھی۔
    یسوؔع کی موت خُدا کے منصوبہ کی حقیقتِ آفرین تھی،جس نےعہدِ عتیق میں کفّارہ کی قربانی کی طرف مؤثر طور پر اشارہ کیا۔ عہدِ عتیق میں ہاتھ رکھنا اور عہدِ جدید میں یسوؔع کا بپتسمہ خُدا کی شریعت کےبالکل عین مطابق ہیں (یسعیاہ۵۳:۱۰ ، متی ۳:۱۳- ۱۷ ،عبرانیوں۷:۱- ۱۰، ۱۸، ۱۔پطرس۳:۲۱)۔
    عہدِ جدید بپتسمہ اور یسوؔع کی موت کے سَنگ ختم نہیں ہو جاتا، بلکہ ہمیں ارشادفرماتا ہے کہ نجات کی تکمیل ہمارےمسیح میں بپتسمہ لینے میں ہے،جو ہماری پرانی انسانیت کو اُس کے ساتھ مرنے کے قابل کرتی ہے (رومیوں۶:۳- ۷، گلیتوں ۲:۱۹- ۲۰)۔
    اِس بنا پر یہ ہمیں بتاتا ہے کہ یوحناؔ اِصطباغی نےیسوؔع مسیح کو  دُنیا کے تمام گناہ اُٹھانے کے لئے بپتسمہ دیا، اوراِس بنا پر نتیجتاً، وہ مصلوب ہوا۔ یسوؔع مسیح نے، اپنے بپتسمہ اور خون کے ذریعہ سے ، نہ صرف دُنیا کے گناہوں کو دھوڈالا، بلکہ ہمیں سزا سہنے اورنسلِ انسانی کی جگہ پرتکلیف برداشت کرنے کے وسیلہ سےشیطان کی قوت سے بھی بچالیا اورہمیں خُدا کی قدرت میں واپس لوٹا دیا۔
    لہٰذا ،یسوؔع کی مخلصی نے گناہ کا مسئلہ حل کردیا جو لوگوں کو خُداکے نزدیک جانے سے روک رہا تھا۔ اِس تاریخی واقعہ نے خُدااور انسان کے درمیان صلح اور یگانگت کو،اُسی اثنا میں  نجات ، خوشی(رومیوں ۵:۱۱)، زندگی (رومیوں ۵:۱۷- ۱۸)، اور مخلصی(متی۳:۱۵،یوحنا۱:۲۹  ،عبرانیوں ۱۰:۱-۲۰، افسیوں۱:۷ ، کلسیوں۱:۱۴) کولاکر، بحال کر دیا۔

  • یومِ کفّارہ

    عبرانی میں، اِس نظریہ کا مطلب،’ ڈھانپنے،‘یا ’دوبارہ میل ملاپ ‘کا دن ہے۔یہودیوں کے لئے سب سے زیادہ اہم دن ساتویں مہنیے کی دسویں تاریخ کو یومِ کفّارہ کا دن تھا(احبار ۲۳:۲۷ ، ۲۵:۹)۔ ہم احبار۱۶ باب میں دیکھ سکتے ہیں کہ بِلا شک  سردار کاہن بھی ماسوائےاُس دن کی مخصوص رسومات کے  پاک  ترین  مقام  میں داخل نہیں ہو سکتا تھا۔
    پاک ترین مقام کو بھی بذاتِ خوداِسی طرح اسرائیل کے لوگوں کوکفّارہ کی ضرورت تھی ؛اِس صورت میں ، سردار کاہن کوذَبیح کے سر پراپنے ہاتھ رکھنے کے وسیلہ سے گناہوں کو سلسلہ وار منتقل کرنے کے سلسلے میں قربانی چڑھانی پڑتی تھی۔ بنی اسرائیل یومِ کفّارہ پر خُدا کی پاکیزگی اور اپنے گناہوں کے متعلق سوچتے تھے۔
    اُس وقت،زیادہ سے زیادہ 15 قربانیاں ، (عزازؔیل کے  بکرے کو شامل کرکے)،12 سوختنی قربانیاں اور 3کفّارہ کی قربانیاں خُداکو چڑھائی جاتی تھیں(احبار۱۶:۵-۲۹ ،گنتی۲۹:۷-۱۱)۔ اگر ہم گنتی ۲۸:۸  میں مذکورہ’دوسرے برّہ‘کوگن لیں ،تو 13 سوختنی قربانیاں اور4کفّارہ کی قربانیاں بنتی ہیں۔
    وہ دن جب  اسرائیلی اپنے سال بھر کے گناہوں کا کفّارہ دیا کرتے تھے ساتویں مہنیے کی دسویں تاریخ تھا۔ علیٰ ہذا القیاس ،پوری دُنیاکے لئے یومِ کفّارہ کادن وہ دن تھا جب یسوؔع نے یوحناؔ اِصطباغی سے بپتسمہ لیا۔ یہ درحقیقت پوری نسلِ انسانی کے لئے یومِ کفّارہ تھا۔ یہ وہ دن تھا جب خُدا نے دُنیا کے تمام گناہوں کو  دھوڈالا(متی۳:۱۳- ۱۷)۔ یہ وہ  یومِ کفّارہ تھا جس پر خُدا نے ’’اسی طرح …………ساری راستبازی کو پورا کیا۔‘‘

  • کفّارہ کی قربانی

    عہدِ عتیق میں:بالکل دوسری قربانیوں کی طرح،تمام اسرائیلیوں کے لئے خیمہء اجتماع میں تقدیس کی قربانی چڑھائی جاتی تھی ۔سردار کاہن خود کوپاک کرتا تھا اور رسومات کے لئے عام روزمرّہ کےلباس کی بجائے باریک کتانی لباس پہنتا ،اور اپنے اور اپنے گھرانے کے لئے ایک جوان بچھڑا خطا کی قربانی کےطور پر اورایک  مینڈھا سوختنی قربانی کے طور پر منتخب کرتاتھا(احبار۱۶:۳-۴)۔ سردار کاہن اپنے لوگوں کے سال بسال  گناہوں کو ذَبیحوں کے سر پرسلسلہ وار منتقل کرنے کے لئے اپنے ہاتھ رکھتاتھا۔
    ہاتھ رکھنا یومِ کفّارہ کا لازم حصہ تھا۔ اگر یہ ادا نہیں ہوتا تھا، تو قربانی مکمل نہیں ہوسکتی تھی کیونکہ گناہ کاکفّارہ ہاتھ رکھنے کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا تھا،اِس صورت میں  اسرائیلیوں  کے گناہ سال بسال گناہ کی قربانی پر سلسلہ وار منتقل ہوتے تھے۔
    احبار۱۶:۲۱ میں،’’اور ہاروؔن  اپنے دونوں ہاتھ اس زندہ بکرے کے سر پر رکھ کر اسکے اوپربنی اسرائیل کی سب بدکاریوں اور انکے سب گناہوں اور خطاؤں کا اقرار کرے اور انکو اس بکرے کے سر پر دھر کر اسے کسی شخص کے ہاتھ جو اس کام کے لئے تیار ہو بیابان میں بھجوادے۔‘‘
    وہ لوگوں سےدو بکرے خطا کی قربانیوں کے طور پر اور ایک مینڈھا سو ختنی قربانی کے طور پرلیتاتھا (احبار۱۶:۵)۔اِس کے بعد، وہ خیمہء اجتماع کے دروازہ پر خُداوند کے حضور دو بکرے پیش کرتا تھا اور اُن میں سے ایک ’ خُداوند‘کے لئے اور دوسرا ’عزازؔیل کا  بکرا ‘ہونےکے لئے منتخب کرنے کی خاطر چٹھیاں ڈالتاتھا۔
    خُداوند کے لئے مخصوص بکرا خطا کی قربانی کے طور پر چڑھایا جاتاتھا، اور چھوڑاہوا بکرااسرائیل کے لوگوں کے سال بسال گناہوں کا کفّارہ دینے کے لئے خُداوند کے حضورزندہ پیش کیا جاتا تھا ، اوراِس کے بعد بیابان میں بھیجا جاتا تھا(احبار۱۶:۷- ۱۰)۔
     اسرائیل کے گناہ سردار کاہن کے ہاتھ رکھنے کے ذریعہ سے چھوڑ ے  ہوئے  بکرے  پر  سلسلہ وار
    منتقل ہوتے تھے۔اِس کے بعد، چھوڑا ہوا بکرا، جو اسرائیل کے تمام گناہ اپنے اوپراُٹھالیتاتھا ،لوگوں اور خُدا کے درمیان دوبارہ میل ملاپ  کے لئے بیابان میں چھوڑ ا جاتا تھا۔حسبِ دستور اسرائیل کے سال بسال گناہ دُھلتے تھے۔
    عہدِ جدید میں:اِسی اُسلوب میں،یسوؔع مسیح نے یوحناؔ اِصطباغی سے بپتسمہ لیا(عہدِ عتیق میں ہاتھ رکھنے کی صورت)اورخُدا کی نجات کو پورا کرنےکے لئے قربانی کے برّہ کے طور پردُنیا کے تمام گناہ اُٹھالئے(احبار۲۰:۲۲،متی۳:۱۵ ، یوحنا۱:۲۹ ، ۳۶)۔
    عہدِ عتیق میں ، چٹھیاں ڈالنے سے پہلے ، ہارونؔ اپنے اور اپنے گھرانے کے لئے خطا کی قربانی کے طور پر ایک جوان بچھڑا ذبح کرتا تھا (احبار۱۶:۱۱)۔اِس کے بعد وہ ایک بخور دان کو لیتا جس میں خُداوند کے مذبح پر کی آگ کےانگارے بھرے ہوتے تھے وہ اپنی مٹھیاں باریک خوشبودار بخور سے بھرتا تھا اور اُسے پردہ کے پیچھے لے جاتا تھا۔یوں  وہ خُداوند کےحضور بخور کو آگ پر ڈالتاتھا تا کہ بخور کا بادل رحم گاہ  پر چھا جائے ۔ وہ بچھڑے کا کچھ خون بھی لیتاتھا اور اُسےاپنی انگلی کے ساتھ رحم گاہ کے اوپر اور سامنے سات مرتبہ چھڑکتا تھا (احبار۱۶:۱۲- ۱۹)۔
    یومِ کفارہ پر ، قربانی کے سر پر ہارون ؔ کے ہاتھ رکھنے کو خارج نہیں کیا جا سکتا تھا ۔ ہارونؔ بکرے پرہاتھ رکھتاتھااور اسرائیل کے تمام گناہ اور تمام بدکرداریاں اُس کے سر پرسلسلہ وار لاد دیتا تھا ۔ اِس کے بعد، ایک مناسب آدمی بکرے کو بیابان میں لے جاتا اور اُسے چھوڑ دیتا تھا ۔ چھوڑا ہوا بکرا اسرائیل کے گناہوں سمیت بیابان میں آوارہ پھرتاتھا اور بالآخراُن کی خاطر مر جاتاتھا ۔ یہ عہدِ عتیق میں کفارہ  کی مخصوص نوعیت کی قربانی تھی ۔
    یہی ہو بہو نئے عہد نامہ میں ہوا ہے ما سوائے ، عزازؔیل کے  بکرے کے طورپر، یسوؔع مسیح تھا ، جس نےدُنیا کے تمام گناہ اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے اپنے آپ پراُٹھا لئے اور خون بہایا اور ہماری خاطر صلیب پر مر گیا ۔
    اِس لئے اب ، تمام گناہوں سے نجات آسمانی سردار کاہن ، یسوؔع مسیح کے بپتسمہ اور مصلوبیت کے بغیرحاصل نہیں ہو سکتی ۔ یہ پانی اور رُوح کی نئے سرے سے پیدا ہونے کی نجات کی تکمیل ہے ۔

  • ہاتھ رکھنا ،تخصیص

    یہ عہدِ عتیق میں گناہ کی قربانی پرگناہ کو سلسلہ وار منتقل کرنے کے لئے خُداکا بخشا ہوا طریقہ تھا (احبار۴:۲۹، ۱۶:۲۱)۔ عہدِ عتیق کے دَور میں،خُدا نے لوگوں کوخیمہء اجتماع کے اندرگناہ کی قربانیوں کے سرپر ہاتھ رکھنے کے وسیلہ  سےاپنے گناہوں کا کفّارہ دینے کی اجازت دی ۔اِس بنا پر عہدِ جدید میں آئندہ یسوؔع کے بپتسمہ کو ظاہر کرنا تھا۔

  • بپتسمہ

    بپتسمہ کا مطلب①دھونا②دفن کرنا(غوطہ لینا) اور رُوحانی معنوں میں، ③ہاتھ رکھنے کے وسیلہ سے سلسلہ وار گناہ منتقل کرناہے،جس طرح عہدِ عتیق کے دَور میں خدمت سر انجام دی جاتی تھی۔
    عہدِ جدید میں، یوحناؔ اِصطباغی کی معرفت یسوؔع کا بپتسمہ دُنیاکے تمام گناہ دھونے کے لئے تھا۔ ’یسوؔع کے بپتسمہ‘ میں نسلِ انسانی کے تمام گناہوں کو اُٹھانے،یعنی دُنیا کے گناہوں کو دھونے کا مفہوم موجود ہے۔
    یسوؔع نے یوحناؔ اِصطباغی سے بپتسمہ لیا، جو تمام بنی نوع انسان کا نمائندہ اور ہاروؔن کے نسب نامہ کا سردار کاہن تھا،اوردُنیا کے تمام گناہ اپنے آپ پراُٹھا لئے۔یہ اُس کے بپتسمہ کا مقصد تھا۔
     لفظ ’بپتسمہ‘ کارُوحانی مطلب’سلسلہ وارمنتقل کرنا،دفن کرنا‘ ہے ۔ اِس  طرح ،”یسوؔع  کے  بپتسمہ ‘‘ کا مطلب ہے کہ تمام گناہ سلسلہ واریسوؔع پرمنتقل ہو گئے، اوریعنی کہ اُس نے ہماری جگہ پر سزاسہی۔ نوعِ انسان کو بچانے کے سلسلے میں، یسوؔع کواپنے بپتسمہ کے سَنگ ہمارے گناہ اُٹھانے اور اُنکی خاطر مرنا پڑا۔
    اِس صورت میں، اُسکی موت آپ کی اور میری،یعنی دُنیا کے تمام گناہ گاروں کی بھی موت ہے، اور اُسکا جی اُٹھنا تمام لوگوں کا جی اُٹھنا ہے ۔اُسکی قربانی گناہ گاروں کی نجات ہے، اور اُسکا بپتسمہ نسلِ انسانی کے تمام گناہوں کو دھونے کااصل گواہ ہے۔
    کتابِ مقدّس ہمیں بتاتی ہے، ’’اور اسی پانی کا مشابہ بھی یعنی بپتسمہ اب تمہیں بچاتا ہے۔ ‘‘(۱۔پطرس ۳:۲۱)۔ یسوؔع کا بپتسمہ ہمارے گناہ دھونے کے وسیلہ سے پوری نسلِ انسانی کو بچانے کا راست طریقۂ عمل ہے۔

  • گناہ

    ہر چیز جو خُدا کے مخالف ہے گناہ ہے۔اِس بنا پریہ تمام گناہوں کو بیان کرتا ہے، جن میں موروثی گناہ اورخطائیں  شامل ہیں جو ہم اپنی پوری عُمروں میں کرتے ہیں۔
    یونانی میں لفظ گناہ’ہیمرشیا‘'Hamartia'ہے۔اوراِس کی فعلی حالت’ہیمرٹانو‘'Hamartano'ہے،جس کا مطلب ’نشان سے چوک جانا‘ہے۔اِس بنا پر،سنجیدہ ترین گناہوں میں سے ایک یسوؔع پرغلط طور پرایمان لاناہے،اور اِس طرح  نجات حاصل کرنے کی صلاحیت میں کمی کا شکار ہوناہے۔ سچائی کونہ جاننانہ ہی اُس پر ایمان لانانا فرمانی کرنے اورخُدا کے برخلاف کفر بکنے کا گناہ  ہے۔
    اگر ہم واقعی خُدا کے آگےایسا گناہ کرنانہیں چاہتے،توہمیں درست طور پر اُس کا کلام سمجھنا اوراچھی طرح سچائی کو جانناچاہئے  کہ یسوعؔ ہمارا نجات دہندہ بن چکا ہے۔
    ہمیں خُدا کے کلام کےطُفیل سے یسوؔع کے بپتسمہ اور اُسکی صلیب پر ایمان لانا چاہئے۔ خُدا کے کلام کو قبول نہ کرنا، سچائی سے انحراف کرنا، جھوٹے الہٰی نظریات  پر ایمان لانا، گناہ ہے۔
    کتابِ مقدّس ہمیں بتاتی ہے کہ سب سے زیادہ سنجیدہ  گناہ،’گناہ  جو  موت  کی  طرف  لے جاتا
    ہے‘(۱۔یوحنا۵:۱۶)،یہ ایمان نہ لانا ہے کہ خُدا نےدُنیا کے تمام گناہ دھوڈالے۔ہمیں یسوؔع کی پیدائش، اپنےبپتسمہ کے ذریعہ سے اُس کے گناہ دھونے، اور صلیب پراپنے خون کے سَنگ ہمیں زندگی بخشنے پر ایمان لانا چاہئے۔اِس بنا پر یہ گناہ ہے اگرکوئی آدمی  تحریری کلام پر ایمان نہیں لاتا کہ یسوؔع نے بپتسمہ لیا، صلیب پر مؤا، اور ہمیں ہمارے تمام گناہوں سے آزاد کرنے کے لئےجی اُٹھا۔

  • توبہ

    جب وہ آدمی جو خُدا سے دُور جاچُکا ہے  اپنے گناہوں کواچھی طرح جانتا ہے اور یسوؔع کا اُن کےگناہ  دھونےکے لئےشکر بجا لاتا ہےاورخُدا کے پاس واپس لوٹتا ہے، تویہ توبہ کہلاتی ہے۔
    ہم سب گناہ کے ڈھیر ہیں۔ حقیقی توبہ مندرجہ ذیل سچائی کا اقرار کرنا ہے:یعنی ہم خُدا کے آگےگناہ گار ہیں ،یعنی کہ ہم باز نہیں رہ سکتےبلکہ اپنی تمام عُمریں گنا ہ کرتے ہیں  اور جہنم چلے جاتے ہیں جب ہم مرتے ہیں ؛ یعنی ہمیں یہ ایمان رکھنے کے وسیلہ سےیسوؔع کواپنے نجات دہندہ کے طور پر قبول کرنا ہے کہ وہ اِس دُنیا میں ہم جیسے گناہ گاروں کو بچانے کے لئے آیا،اوریعنی اُ س نے تمام گناہ(اپنے بپتسمہ کے وسیلہ  سے)اُٹھالئے،مر گیا اور ہمیں بچانے کی خاطر جی اُٹھا۔ حقیقی تو بہ اپنے ذاتی خیالوں کو ترک کرنا  اور خُدا کی طرف رُجُوع کرنا ہے(اعمال۲:۳۸)۔
    تو بہ اپنے گناہوں کو ماننا اور خُدا کے کلام کی طرف واپس رُجُوع کرنا ، اور اپنے پورے قلبوں کے ساتھ پانی اور خُون  کی نجات کو قبول کرنا ہے(۱:یوحنا۵:۶)۔
    حقیقی توبہ اپنے آپ  کو مکمل گناہ گارکےطور پرماننا اور یسوؔع، ابنِ خُداپر اپنے نجات دہندہ کے طور پر ایمان لانا ہے ، جس نے ہمیں ہمارے  تمام گناہوں سے بچا لیا۔ نجات حاصل کرنے اوراپنے تمام گناہوں سے دُھلنے کے سلسلے میں ،ہمیں یقیناً اپنے ذاتی اعمال کے وسیلہ  سےراستباز بننے کی کوشش روک دینی چاہئے اورماننا چاہئے کہ ہم خُدا اور اُسکےاحکام کے آگے مکمل گناہ گار ہیں۔اِس کے بعد  ہمیں اُس کی نجات کی صداقت کو ،یعنی پانی اور رُوح کی خوشخبری کوقبول کرنا چاہئے، جو یسوؔع نے ہمیں اپنے بپتسمہ اور خُون سمیت عطا کی ۔
    ایک گناہ گار کو اپنے تمام ذاتی خیالات اور مرضی کوترک کرنااورمکمل طور پر یسوؔع کی طرف واپس لوٹنا چاہئے۔ہم نجات پائیں گے  جب ہم ایما ن لائیں گے کہ یسوؔع کا بپتسمہ اپنے آپ پرہمارے گناہوں کواُٹھانے کے لئے تھا ۔
    دوسرے لفظوں میں، یسوؔع کا بپتسمہ، اُسکی مصلوبیت ،اوراُسکا جی اُٹھنا، خُدا کی راستبازی کو،یعنی اُس کی تمام گناہ گاروں کی نجات کوپورا کر چُکے ہیں۔ یسوؔع جسم میں آیا، بپتسمہ لیا اور ہمارے تمام گناہوں کو دھونے کے لئےمصلوب ہوگیا ۔ اِن تمام باتوں پر مکمل ایمان رکھنااورتوکل کرنا کہ یسوؔع اُن تمام لوگوں کا نجات دہندہ بننے کے لئے جی اُٹھا جو اُس پر ایمان لاتے ہیں یہی حقیقی تو بہ اور اَصلی ایما ن ہے۔

  • نجات

    مسیحیت میں نجات کا مطلب،’گناہ کے غلبے یا سزا سے رہائی‘ہے۔ہم نجات حاصل کرتے ہیں جب ہم مانتے ہیں کہ ہم بچ نہیں سکتےبلکہ  اپنے گناہوں کے سبب سے جہنم میں جائیں گے  اور ایمان لاتے ہیں کہ یسوؔع نے اپنی پیدائش ،بپتسمہ اور صلیبی خُون کی بدولت ہمیں ہمارے تمام گناہوں سے بچا لیا۔
    وہ لوگ جو یسوؔع کی نجات، بپتسمہ اوریسوؔع کے خُون  پر ایمان لانے کےوسیلہ سے بے گناہ بن جاتے ہیں، وہ’نجات یافتہ، نئے سرے سے پیداہوئے، اور راستبازلوگ‘کہلاتے ہیں۔
    ہم ’نجات‘ کا لفظ اُن لوگوں پر عائد  کر سکتے ہیں جو یسوع پر ایمان لانے کے وسیلہ سے ،اپنے تمام گناہوں سے ،جن میں موروثی گناہ اوراُن کےروزمرّہ کے گناہ شامل ہیں،نجات یافتہ ہو چُکے ہیں۔بالکل جس طرح ڈوبتا آدمی  بچ جاتا ہے، اُسی طرح وہ آدمی جودُنیا کے گناہ میں ڈوبا ہوا ہے ، یسوؔع پراپنے نجات دہندہ کے طور پر ایمان لانے کی وساطت سے، اُسکے بپتسمہ  اور  خُون ، یعنی  رُوحانی  صداقت
      کے کلمات  پر ایمان لانے کے توسط سے بچ سکتا ہے۔

  • اَز سرِ نَو پیداہونا

    اِس کا مطلب’دوسری مرتبہ پیدا ہونا‘ہے۔ ایک گناہ گار اُسوقت اَز سرِ نَو پیداہوتا ہےاور راستباز بن جاتا ہے جب وہ یسوؔع کے بپتسمہ اور صلیب پر ایمان لانے کے ذریعہ سے رُوحانی طور پر نجات یافتہ ہوتا ہے۔
    ہم یسوؔع کے بپتسمہ اور خُون  پر ایمان لانے کے وسیلہ سےرُوحانی طور پر اَزسرِ نَو پیدا ہوسکتے ہیں۔ نئے سرے سے پیدا ہونے والے وہ لوگ ہیں جو اپنے تمام گناہوں سے دُھل چُکے ہیں اور’’دوسری بار بغیر گناہ کے نجات کے لئے اُن کو دکھائی دے گاجو اُس کی راہ دیکھتے ہیں۔‘‘(عبرانیوں۹:۲۸)۔

  • گناہوں کی بخشش

    یہ اہم نظریہ گناہوں کی معافی کے طور پر بھی مشہور ہے۔گناہ معاف ہوتے ہیں جب ہم پانی اور رُوح کی  خُوشخبری کے وسیلہ سے ایک ہی باراورہمیشہ ہمیشہ کے لئے تمام گناہوں سے پاک ہو جاتے ہیں۔ پانی اور رُوح کی  خُوشخبری پرایمان سچائیوں کے سلسلےپر ایما ن رکھنا ہے: یعنی یسوؔع  مسیح کی الوہیت، ابنِ خُدا کاتجسم، اُسکا بپتسمہ اور ہم سب کی نجات کے لئے مصلوبیت ،اور اُس کا جی اُٹھنا۔
    مخلصی جو یسوؔع نے ہمیں عطا کی  اُسکے بپتسمہ اور خُون  پر ایمان کے وسیلہ سےہماری ہو سکتی  ہے۔جیسا کہ عہدِ عتیق میں پیشنگوئی کی گئی تھی، یسوؔع نےخود تمام لوگوں کو گناہ سے نجات بخشی۔ کتابِ مقدّس میں چُھٹکارہ یسوؔع کے بپتسمہ اور اُسکے خُون  پر ایمان کے وسیلہ سے گناہوں کو دھونے کی طرف اشارہ کرتاہے۔ تمامتر گناہ یسوؔع پرسلسلہ وار منتقل ہو گئے تھے،اِس طر ح نسلِ انسانی کے باطنوں میں مزیداب کوئی گناہ موجود نہیں ہے۔
    ہم اپنے آپ کوصرف یسوؔع پراُس کے بپتسمہ پر ایمان کے وسیلہ  سےاپنے تمام گناہ سلسلہ وار منتقل کرنے کے بعدرَستگار اور راستباز کہہ سکتے ہیں ۔

  • یسوؔع مسیح

    یسوؔع:’نجات دہندہ جس نے تمام لوگوں کو اُنکے گناہوں اور اُن گناہوں  کی سزا سے بچایا۔‘یسوؔع نجات دہندہ کو بیان کرتاہے ،یعنی کہ اُس  واحدِ حقیقی کو جوتمام لوگوں کو اُنکے گناہوں سے بچاچُکا ہے۔
    مسیح:’ممسوح۔‘ پیشہ ورانہ  مرتبے پر تین قسم کے لوگ تھے جنہیں خُدا کے سامنے مخصوص ہو نا پڑتا تھا: ①بادشاہ ②نبی اور③کاہن ۔یسوؔع نے اِن سب کو پورا کیا۔
    یسوؔع مسیح یہ سبھی کچھ تھا۔اُس نے اِن سب کا کام کیا۔ ہمیں یسوؔع پربادشاہ، نبی، اور کاہن کے طور پر ایمان لاناچاہئےجو ہمارے پاس رَستگاری اور نجات لایا۔اِس شرط پر ،ہم اُسے ’یسوؔع مسیح‘ کہتے ہیں۔ وہ آسمانی سردار کاہن تھا جس نے اپنے بپتسمہ اور خُون کے ہمراہ ہمیں دُنیا کے تمام گناہوں سے بچا لیا۔
    غرض، وہ اُن سب کا بادشاہ ہے جو اُس پر ایمان لاتے ہیں۔وہ ہمیں اچھی طرح اپنے گناہوں کو جاننے کے قابل کرتا ہے  جب ہم اُسکے حضور آتے ہیں۔ اُ س نے ہمیں سکھایا کہ ہم اپنے آباؤ اجداد کے دَورہی سے گناہ گار ہیں ؛ یعنی گناہ گاروں کی نسل کے طور پر، ہم گناہ گار پیدا ہوئے تھے اور نتیجہ کے طورپر،ہم خُدا کی سزا کے ماتحت ہیں۔
    اُس نے ہمیں یہ بھی سکھایا کہ اُسکے بپتسمہ اور خُون کے وسیلہ سےہم اپنے گناہوں سے دُھل گئے
    ہیں۔ اُس نے یہ سب کام ہم گناہ گاروں کی خاطر کئے۔

  • خُدا کی شریعت :دس احکام

    روزمرّہ زندگی سے متعلق خُدا کی شریعت میں احکام کی 613 دفعات ہیں۔مگراِس کا خلاصہ دس احکام ہیں،جنہیں ہمیں خُدا کے حضور قائم رکھناہے۔اِن میں احکام اور ممانعتیں موجود ہیں مثلاً ’’یہ کرو‘‘ اور’’وہ نہ کرو۔‘‘ اِس بنا پر یہ زندگی گزارنے کے راہ نُما اصول ہیں ،اورخُدا کے احکام ہمیں اِس لئے بخشے گئے تاکہ ہم اپنے گناہوں کوبخوبی جان سکیں۔ خُدا کے تحریری احکام کےوسیلہ سے، ہم جان سکتے ہیں کہ ہم کتنی زیادہ اُس  کی نافرمانی کرتے ہیں(رومیوں ۳:۱۹- ۲۰)۔
    اِس بنا پر یہ سبب کہ خُدانے ہمیں اپنے احکام بخشےہمیں اپنے گناہوں کواچھی طرح جاننے کے قابل کرنا تھا۔ہم ہرگز اُس کے تمام احکام پر عمل نہیں کر سکتے، لہٰذا، ہمیں یقیناً عاجزی سے اِس حقیقت کو قبول کرنا چاہئے کہ ہم یسوؔع پر ایمان لانے سے پہلےگناہ گار ہیں۔ہم سب گناہ گار ہیں اور خُدا کو معلوم ہے کہ ہم ہرگز اُسکی شریعت کے مطابق زندگی بسر نہیں کر سکتے ۔ چنانچہ ، وہ اِس دُنیا میں انسان بن کراُتر آیا، بپتسمہ لیا اور صلیب پر سزا برداشت کی۔ اُس کے احکام کے مطابق زندہ رہنے کی کوشش کرنا خود سری کاگناہ ہے۔ہمیں ایسانہیں کرنا چاہئے۔
    شریعت ہمیں دکھاتی ہے کہ خُدا کس قدر کامل اور پاک ہے جبکہ ہم بنی نوع انسان واقعی کس قدرکمزور ہیں۔دوسرے لفظوں میں، خُدا کی پاکیزگی اور کاملیت خُدا کی شریعت میں ظاہر ہوتی ہے۔

  • دریائے یردؔن، جہاں یسوؔع نے بپتسمہ لیا

    دریائے یردؔن تیزی سے بہتا ہوا بحیرۂ مردار میں گرتا ہے۔بحیرۂ مردار کی سطح سمندر کی سطح سے تقریباًچار سو میٹر نیچے ہے۔ اِسلئے، بحیرہ ٔمردار کا پانی کسی اور طرف نہیں بہہ سکتا؛یہ بحیرہ ٔمردار میں ہی قید ہے۔
    بحیرہ ٔمردار کا نمک دوسرے عام سمندروں سے دس گناہ زیادہ ہے ،اور کوئی جاندار شے وہاں زندہ  نہیں رہ سکتی۔اِس وجہ سے،یہ بحیرہ ٔمردار کہلاتا ہے۔یسوؔع نے یوحناؔ اصطباغی سے موت کے دریا(دریائے یردؔن)میں بپتسمہ لیا۔یہ اِس بات کی ترجمانی کرتا ہے کہ تمام بنی نوع انسان،ماسوائے اُن لوگوں کےجن کے دل گناہ سے خالی  ہیں،آخر میں اپنے گناہوں کی ابدی ہلاکت  کا سامنا کرتے ہیں۔
    غرض، دریائے یردؔن گناہوں کو دھونے کا دریا ہے، یعنی ایسا دریا جہاں گناہ گار مرتے ہیں۔مختصراً، یہ مخلصی کا دریا ہے جہاں دُنیاکے تمام گناہ اُس کے بپتسمہ،یعنی یسوؔع پرگناہوں کو سلسلہ وار منتقل کرنے کے وسیلہ سے دُھل گئے تھے۔

  • کون کتابِ مقدّس میں بدعتی ہے

    بدعتی وہ آدمی ہے جو اپنےباطن میں یسوؔع پر ایمان رکھنے کے باوجود گناہ رکھتاہے ۔ططس۳:۱۱میں، یہ ارشادہے،’’ ایسا شخص …… اپنے آپ کو مجرم ٹھہرا کر گناہ کرتا رہتا ہے۔‘‘ یسوؔع نے اپنے بپتسمہ کےسَنگ ہمارے تمام گناہ اُٹھالئےمگر بدعتی شخص پانی (یسوؔع کے بپتسمہ، یعنی بخشش کے بپتسمہ) کی اِس مبارک خُوشخبری پر ایمان نہیں لاتا، جو خُدا کادلنواز تحفہ ہے، بلکہ اِس کی بجائے خود کوگناہ گار کے طور پراُسی دوران کامل نجات کو رد کرتے ہوئےمجرم ٹھہراتا ہے۔
    کتابِ مقدّس ایسی انواع کے لوگوں کو’ بدعتیوں‘کے طور پربیان کرتی ہے جو یسوؔع پر توایمان لاتے ہیں مگر پھر بھی خود کو گناہ گاروں کے طور پر مُجرم ٹھہراتے ہیں (ططس ۳:۱۱)۔ آپکو یقیناًحیران ہونا چاہئے کہ آیا آپ خود بدعتی ہیں یا نہیں۔ اگر آپ یسوؔع پر ایمان لاتےہیں، مگر ابھی تک خودکوگناہ گار کہتے ہیں، تو پھر آپ پانی اور رُوح کی خُوشخبری کی رُوحانی صداقت کو نہیں جانتے۔
    اگر آپ یسوؔع پر ایمان لاتے ہیں، مگر ابھی تک خود کو نااُمیدگناہ گارگمان کرتے ہیں، تو پھر آپ بدعتی ہیں۔اِس کا مطلب ہے کہ آپ گمان کرتےہیں کہ پانی اور رُوح کی سچی خُوشخبری آپ کے تمام گناہوں کو مٹانے اورآپ کو اُس کاطفل بنانے کے لئے انتہائی کمزور ہے۔ اگر آپ اُن لوگوں میں سے کوئی ایک ہیں، اسماً، کوئی بدعتی جوخُدا کے حضورہروز معافی کے لئے اپنے گناہوں کا اقرار کرتاہے اور یہ تسلیم کرتاہے کہ آپ  ابھی  تک گناہ  گار ہیں،توپھر آپکو یقیناً سنجیدگی سے اپنے ایمان پردوبارہ غور کرنا چاہئے۔
    کیسے آپ ہنوز گناہ گار ہو سکتے ہیں جب یسوؔع آپکے تمام گناہوں کومنہا کر چُکا ہے؟ کیوں آپ اُس قرض کو دوبارہ ادا کرنے کی کوشش کررہے ہیں جب اِس کی پہلے ہی یسوؔع نے آپکے تحفہ کے طور پرسزا بُھگت  لی تھی؟ اگر آپ خود دوبارہ قرض ادا کرنے پر اصرار کرتے ہیں، تو آپ بدعتی ہیں اسلئے کہ آپ کاایمان اُس سے مختلف ہے جسے خُدا عطا کرچُکا ہے۔ہر مسیحی جو یسوؔع پر ایمان رکھتا ہے مگر نئے سرے سے پیدا نہیں ہوا، بدعتی ہے ۔ آپکویقیناً سچائی جاننی چاہئے۔خُدا نےدُنیا کے تمام گناہ اُٹھالئے، اور اگر آپ ا ُسکی نجات کو نظر انداز کرتے ہیں ، تو آپ بدعتی ہیں۔
    بدعتی آدمی وہ ہے جو خو دکو گناہ گار کہتا ہے، دوسرے لفظوں میں،خود کو مجرم ٹھہراتا ہے ۔کیاآپ اِسے ممکن خیال کرتے ہیں کہ خُدائے قدوس کسی گناہ گار کو اپناطفل تسلیم کرے گا؟اگر آپ خود کو گناہ گار کہتے ہیں جبکہ اُسی دوارن خُدائےقدوس پر ایمان لاتے ہیں، تو آپ بدعتی ہیں۔ بدعتی نہ بننےکے سلسلے میں ،آپکو دونوں یسوؔع کے بپتسمہ اور اُس کے صلیبی خُون  پرسچائی کے جوڑے کے طور پر ایمان رکھناچاہئے۔
    آپ صرف اُسوقت نجات یافتہ ہوسکتے ہیں جب آپ بیک وقت دونوں: یسوؔع کے بپتسمہ اور اُسکےخُون پر،ایمان لاتے ہیں۔